ٹھانی ہے ہر بار کی صورت دل میں پھر اِس بار
اب نہ دیدہء اغماز کے ہوں گے اور شکار

آخر کب تک اُن کی لاپرواہی کا ہو سوگ
ایک ذرا سی پریت بنے کیوں اپنی جاں کا روگ

پل پل جان نکالیں تو پھر کیونکر ہوں وہ جان
اُن سے ملنے کے ارمان کے پکڑیں گے ہم کان

اپنے آپ سے اُن کی باتیں کرنا بھی موقوف
اپنی ذات کے اندر اُن کا دھرنا بھی موقوف

کرنی نہیں وٹس ایپ پہ اُن کو آئندہ سے کال
اُن کو نہیں ہے پرواہ تو کیوں ٹپکے اپنی رال

اُن کے جلوؤں کے آگے نہ ہرگز ہوں گے ڈھیر
کالج میں مدبھیڑ ہوئی تو منہ ہی لیں گے پھیر

کالے کالے گیسو، مکھن مکھن روپ کو ٹھاہ
اب نہ اُن کو دیکھ کے منہ سے نکلے گی واہ واہ

کبھی کبھی کے اِن خدشوں کی کر دیں گے تائید
اور کسی کا میلہ ہیں وہ اور کسی کی عید

لیکن ہیں بیکار قلعہ بندی کی یہ اشباہ
اتھل پتھل کر دے گی سب اُن کی ایک نگاہ

Advertisements