ہم فیض نہیں کہ بتلائیں حالاتِ رقیباں کیسے ہیں
عاشق کا ٹھینگا ہی جانے، جاناں کے جاناں کیسے ہیں

جب خوابِ وصل دکھایا تھا تو دودھ میں "مینگیاں” چہ معنی
ملنے کے اگر تھے پیماں تو نہ آنے کے امکاں کیسے ہیں

گل پاشی کی تھی غیروں پر تو لالوں لال تھی راہگذر
اب میری جانب پھینکے ہیں تو گل مع گلداں کیسے ہیں

نہ آڑھت والے واقف ہیں نہ تاجر کو آگاہی ہے
اِس دورِ گرانی میں انساں ارزاں ہیں تو ارزاں کیسے ہیں

ہم بیدِ مجنوں جیسوں پر یوں حسن کی ٹھٹھا بازی ہے
اک جان بھی اپنی پوری نہیں سو جان سے قرباں کیسے ہیں

جو قوم کو لوٹے جاتے ہیں، وہ شرفاء کیوں کہلاتے ہیں
لیڈر ہیں تو لیڈر کیونکر ہیں، انساں ہیں تو انساں کیسے ہیں

سرکاری زباں گر مستقبل میں چینی بنی تو کیا ہو گا
ہم آپ تو بیٹھے سوچیں گے، یہ شوں شاں شوں شاں کیسے ہیں؟

کچھ قدرِ فدائی کرتے نہیں، شکنوں سے بھری رہتی ہے جبیں
ہم جن کے "چپکو” کہلائے وہ ہم سے گریزاں کیسے ہیں

جو آتے جاتے یونہی ہمیں اشعار سناتے رہتے تھے
دیوان نکالا ہم نے تو انگشت بہ دنداں کیسے ہیں

Advertisements