حسرت ہو اور خواہش ہو اور بارش ہو
پھر یادوں کی سازش ہو اور بارش ہو

ضبط کے بندھن توڑ کے نکلے بھید کوئی
اُن پلکوں میں لرزش ہو اور بارش ہو

دوڑتا ہو شریانوں میں تیزاب سا کچھ
قلب و نظر میں آتش ہو اور بارش ہو

ہجر کے بادل دل سے گزرتے جاتے ہوں
فون ہو اُس کی پرسش ہو اور بارش ہو

اُس کی چپ میں لہراتی ہو قوسِ قزح
کچھ ہونٹوں میں جنبش ہو اور بارش ہو

دل کا فسانہ رُت کے رخساروں سے ڈھلے
بھیگی بھیگی کاوش ہو اور بارش ہو

ایک ہی صحرا ہو جیون کے رستے میں
ایک ہی غم کی یورش ہو اور بارش ہو

پھر سے کاغذ کی کشتی ہو، ہم تم ہوں
بچوں والی رنجش ہو اور بارش ہو

Advertisements