میرا کیا دوش کہ یہ عشق تو اس دل کی ہے سازش جاناں!
کیوں ترے ویروں نے کی ہے مری مالش جاناں

حسنِ کافر میں جوانی کی بہاریں بھی عجب رُوپ کی دیکھیں ہم نے
کوئی ہے سرخ ٹماٹر کوئی کشمش جاناں

تاڑئوں پر کیوں خفا ہوتا ہے
تجھ کو رب نے جو بنایا ہے تو کاہے کو بنایا ہے یوں مہوش جاناں

کچھ مرے جذبِ دروں کا بھی کرو پاس کبھی
یوں بھی بن جاؤ نہ داعش جاناں

لاکھ فیتوں سے اسے ناپے پھرو
فاصلوں کی کہاں ممکن ہے پیمائش جاناں

ناچ تگنی کا نچایا ہے رقیبوں نے تو یہ مجھ پہ کھلا ہے اکثر
اس سے بڑھ کر نہیں ہوتی کوئی ورزش جاناں

اپنے مطلب کا نظر آئے تو پھر دیکھتے ہیں کھول کے آنکھیں ہم تم
یوں تو بنتے ہیں بہت صاحبِ بینش جاناں

وہ کرپشن سے بناتے ہیں اثاثے تو یہ حق ہے اُن کا
لیڈرِ قوم سے قانون کئے جاتا ہے کس برتے پہ پرسش جاناں

اپنے احباب میں کہلاتے ہیں وہ لوگ چغد
فیس بک پر جو بگھارے ہی چلے جاتے ہیں دانش جاناں

لفٹ ملتی ہے کلرکوں سے کہاں پھوکٹ میں
نوٹ کی شکل نظر آئے تو کرتے ہیں وہ جنبش جاناں

جب حماقت بھری ٹنڈ کوئی نظر آئے تو لفظوں کی لگاتا ہے چپت
یہ قلم کو بھی ہے کس طور کی خارش جاناں

Advertisements