جس طرف بھی جائیے
محوِ خنداں پائیے
اِن کے فقرے کھائیے
اور بس مسکائیے
ہر طرف تشریف فرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
ہر سیاستدان کا
اب لب و لہجہ ملا
اس مرض میں مبتلا
بھانڈ ہر کوئی بنا
سب کے سب جلسوں میں بن جاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
دفتروں میں بھی کہاں
اب مفر اِن سے میاں
رکھتے ہیں سب ہمرہاں
بھانڈ کا طرزِ بیاں
اب تو اِن سے آپ شرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
نیوز چینل پر ملے
بھانڈ ہر ہر طور کے
اب سیاسی تبصرے
اِن کے ہی ذمے لگے
اب صحافت کو بھی گرماتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
ان کی باتوں پر چڑیں
تیل جلتی پر دھریں
اور "مچلائیں” اِنہیں
جینا ہی دوبھر کریں
کس قدر فنکاری دکھلاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
بھانڈ ہیں چیزیں دگر
کستے پھرتے ہیں اگر
پھبتیاں ہر شخص پر
خود کو بھی بخشیں کدھر
بھانڈ بن کر خود سے ٹکراتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ
…….
لوگ کرتے ہیں بریف
نغزگویانِ ظریف
محفلِ شعری کے تھیف
لاکھ بنتے ہیں شریف
ہر کسی میں یہ بھی کہلاتے ہیں بھانڈ
جس طرف بھی دیکھتا ہوں میں، نظر آتے ہیں بھانڈ

Advertisements