جن سے متروک رشتے ناتے ہیں
ہر سمے سے وہ جھانک جاتے ہیں

ماتمِ تیرگی بھی اپنی جگہ
آؤ اپنے دئے جلاتے ہیں

یہ ترا ہجر، تیرا غم، توبہ!
آسماں دوش پر اُٹھاتے ہیں

کوئی پرواز کا جواز نہیں
ہم یونہی خود کو پر لگاتے ہیں

میں تو تجھ سے بچھڑ کے زندہ ہوں
لوگ جنگل میں کھو بھی جاتے ہیں

درِ میخانہ خود نہیں کھلتا
لوگ اپنی جگہ بناتے ہیں

کھینچ لی جب زمین قدموں سے
خواب کیوں چاند کے دکھاتے ہیں

کوئی چلتا ہو نیند میں جیسے
اپنی جانب یوں چل کے آتے ہیں

موسمِ یجر آ کے جاتا نہیں
چھوڑنے والے چھوڑ جاتے ہیں

خاک بیدار ہو سکے گا کوئی
کسی تنویم میں جگاتے ہیں

میں تو خود کو بھی بھول آیا ہوں
لوگ زادِ سفر بھی لاتے ہیں

زعم کیا ہو جراحتوں کا ظفرؔ
پھر نئے زخم مسکراتے ہیں

Advertisements