روشن ہے کہکشاں کی طرح میری ذات آج
ہر پل سے چھن کے آنے لگی جیسے نعت آج

دل میں پروئے جاتا ہوں موتی میں ذکر کے
لو دے رہا ہے روح میں رنگِ حیات آج

ہے اسوۂ رسولﷺ کا آئینہ سامنے
کھولی ہوئی ہے میں نے قراں کی لغات آج

حل ہو گیا ہوں ذکر و درودو سلام میں
مجھ سے سوا کہیں ہے مری کائنات آج

میلاد کی مہک سے معطر ہیں شش جہت
بادِ نسیم جیسی مری بات بات آج

یادِ نبی ﷺہے اور عجب کیفیت میں ہوں
جیسے گزر رہی ہو مدینے میں رات آج

کافی ہے عمر بھر کی کفالت کے واسطے
درکار ہے بس ایک نظر کی زکواۃ آج

جو فیض یاب مکتبِ عشقِ نبیﷺ سے ہو
پا لے گا یہ زمانہ نظامِ ثبات آج

Advertisements