چہچہے جس سے تھے وہ بھی بے زباں بنتا گیا
بیگمانہ آمریت میں میاں بنتا گیا

کالے دھندے والوں کے اونچے محل بنتے گئے
تیرا میرا گھر سمٹ کر پانداں بنتا گیا

ارتقائے حُسن کا عالم نہ ہم سے پوچھئے
ریشمی بننا تھا موٹو ریشماں بنتا گیا

عشق ہم نے جب کیا ہر بی جمالو سے کیا
ہر اڑنگی بازاپنا رازداں بنتا گیا

بال رنگوانے لگا نائی کے آگے بیٹھ کر
دیکھتے ہی دیکھتے بڈھا جواں بنتا گیا

اولاً تم کو شریف انساں کہا تھا اور پھر
گالیوں والا ہی اندازِ بیاں بنتا گیا

غیر پہنچا تیری انگنائی میں تو کچھ نہ ہوا
میں گیا تو چار سو شورِ سگاں بنتا گیا

آج ہر خوردوکلاں ہونے لگا درپے مرے
میرا سچ میرے لئے اک امتحان بنتا گیا

ہم کو بتلاتا رہا وہ سادگی کی برکتیں
اور خود وہ کاسمیٹکس کی دکاں بنتا گیا

رفتہ رفتہ اُس کو بھی دنیا شناسی آ گئی
جو سراپا گل تھا وہ گل شیر خان بنتا گیا

عمر تو ہم دونوں کی یکساں تھی لیکن دن بدن
تیر وہ بنتا گیا اور میں کماں بنتا گیا

ہو گیا معلوم آٹے دال کا بھاؤ اُنہیں
درد میرا جب سے دردِ ناصحاں بنتا گیا

جس کے جی میں جو بھی آئی ہے وہی کرنے لگا
کارواں گویا جلوسِ رہرواں بنتا گیا

Advertisements