پڑا ہے ایک یاد اوڑھ کر بدن علیٰحدہ
بدل رہی ہے زندگانی پیرہن علیٰحدہ

کہیں کہیں پہ خون میں جنون کیسا آ گیا؟
پیامِ یزداں ہے الگ یا اہرمن علیٰحدہ؟؟

ہر ایک شاخِ آرزو پہ زخم بھی کھلے رہے
بہار بھی مگن رہی چمن چمن علیٰحدہ

میں دفن ہو چکا ہوں عمرِ رائیگاں کی قبر میں
مرے لئے ہے زندگانی کا کفن علیٰحدہ

بجا غموں کی یورشوں میں خُوئے صبر خوب ہے
مگر ہے مسکرائے جانے کا بھی فن علیٰحدہ

کسی بھی مصلحت سے ماندہ پا نہیں ہوا کبھی
مجھے لئے پھرا جنوں کا بانکپن علیٰحدہ

بھٹک بھٹک کے راستوں پہ مل ہی جائیں گے کہیں
جلوسِ رہرواں سے ناخدائے من علیٰحدہ

ہم ایک سمت بہتی موجِ صوت ہیں تو ایسا کیوں
تری پکار اور ہے مرا سخن علیٰحدہ

مرے نصیب میں ہے اُس دیار میں بھی دارِ شب
ستیزہ کار ہے جہاں کرن کرن علیٰحدہ

یہ کیسے فاصلوں کی ہے خلیج درمیان میں
غمِ زمانہ ہے جدا، تری پھبن علیٰحدہ

حوادثِ زمانہ کے عذاب اک طرف ظفرؔ
تمام عمر اک سمے کی ہے چبھن علیٰحدہ

Advertisements