جو گھر میں چپقلش کا پھر مقام آیا تو کیا ہو گا
تمھارے ہاں سے بھی شورِ دھڑام آیا تو کیا ہو گا

جہاں سے ہم پہ ٹھنڈا ٹھار پانی کل بھی آیا تھا
اُسی غرفے سے پھر کوئی سلام آیا تو کیا ہو گا

تحفظات ایسے ہی ترے میرے ملن پر ہیں
اگر نہ میم کے پہلو میں لام آیا تو کیا ہو گا

ابھی مہمان ہے اور آپ ناکوں ناک آئے ہیں
یہی سالا اگر بہرِ قیام آیا تو کیا ہو گا

عدالت پر بہت چیں بہ جبیں ہونا نہیں اچھا
اگر اِن فیصلوں کو اژدھا آیا تو کیا ہو گا

بڑی لش پش دکھاتا جا رہا ہے عاشقِ بے غم
ترے کوچے میں بے نیل و مرام آیا تو کیا ہو گا

پلاننگ وصل کی کر لی ہے لیکن اس کا بھی ڈر ہے
مجھے نزلہ رہا اُس کو زکام آیا تو کیا ہو گا

جہاں پر تم دئے جاتے ہو بھاشن نوجوانوں کو
وہاں پر تذکرہء ڈیڈ و مام آیا تو کیا ہو گا

وطن کا نوجواں اقبال کا شاہین ہے لیکن
یہ جنگِ ازدواجی میں ہی کام آیا تو کیا ہو گا

سبھی کے منہ کھلے رہ جائیں گے فرطِ تحیر سے
"سرِ محفل محبت کا پیام کا آیا تو کیا ہو گا”

جو سچی بات کرتا ہے وہ کیسے بات کرتا ہے
اُسے بھی ڈالنے کوئی لگام آیا تو کیا ہو گا

غمِ ہستی نے اب جن چہروں پر بارہ بجائے ہیں
میں اُن پر ٹانکنے کو ابتسام آیا تو کیا ہو گا

سُنا ہے جام ہوتا ہے تو شاعر شعر کہتا ہے
ہمارے تو پر مکھن نہ جام آیا تو کیا ہو گا

کوئی تو سننے والا ہو رضاکارانہ عرضِ دل
ظفر کو سخت زوروں کا کلام آیا تو کیا ہو گا

Advertisements