بھرے جب سے دو تین ٹبر کھچا کھچ
ہوا ہے سیاست کا خچر کھچا کھچ

ہمارے ہی ٹیکسوں کا پیسہ اُڑا کر
بنے ہیں وہ لیڈر مخیر کھچا کھچ

اگر تم کسی اور کی ہوگئی ہو
ہمارے بھی دل میں ہیں دلبر کھچا کھچ

بھلا ہیروئن کی سمگلنگ میں کیا ہے؟
بھرو بوریوں میں ٹماٹر کھچا کھچ

کوئی کام کا بندہ ملتا نہیں ہے
اسمبلی میں دیکھے مچھندرکھچا کھچ

اگرچہ بہت مفلسی کا ہے رونا
بہر سو ہے جنسِ دِساور کھچا کھچ

بھرو ہاسٹل بے گھروں سے دبا دب
بچھائے چلے جائو بسترکھچا کھچ

سمجھتے تھے ہم جس کو دیوارِ گریہ
وہاں تھاپے جاتے ہیں گوبرکھچا کھچ

.کہاں نغمگی پاپولر سنگروں میں
گروپوں میں ہیں سارے جھینگر کھچا کھچ

پلاننگ اِدھر بھی کہ اب ہیں ظفر ؔجی
ہمارے وطن میں سخنورکھچا کھچ

Advertisements