اگرچہ کہنے کو اُس سے بڑھ کر کہاں کوئی جانثار ہوگا
نثار ہونے کا وقت آیا تو سب سے پہلے فرار ہو گا

ہزار روکو ، نہیں رُکیں گے، ہزار ٹوکو، نہیں ٹلیں گے
جہاں جہاں شرپسند ہوں گے، وہاں وہاں شر شرار ہو گا

یہ دورِ حاضر کی عاشقی ہے، تضیحِ اوقات ہے سنورنا
نہ ہم نے ہی شیو کی ہوئی ہے نہ اُن کا سولہ سنگھار ہو گا

یہ دیکھنا ہے نئے ڈیزائن کا کیسا شاہین آ رہا ہے
شکار کر پائے گا کسی کو یا خود کسی کا شکار ہو گا

جنابِ ناصح سے فیض کیا ہو جو درد سے آشنا نہیں ہے
نہ کیلکولیٹر ہے پاس اس کے ، نہ کچھ غموں کا شمار ہو گا

جو ٹھرکیوں میں گھُسے ہوئے ہیں، وہ چار ہی لتروں کے جن ہیں
نہ دل سے اُٹھے گی ہُوک کوئی، نہ عاشقی کا بخار ہو گا

الیکشنوں میں کبھی اِن ایکشن، عوام ہوں گے نہ پولیٹیشن
بنامِ ووٹر، بنامِ لیڈر، حمار ہوں گے، کمہار ہو گا

جو قوم کا مال کھا رہے ہیں وہ کس بُری طرح کھا رہے ہیں
نہ ہو گا کوئی حیا کا قصہ، نہ حادثہء ڈکار ہو گا

جو ٹی وی چینل کے واسطے لکھ رہا ہے محنت کشوں کے نوحے
گداز صوفے میں وہ دھنسا ہو گا اور منہ میں سگار ہو گا

کسی بھی لیڈر نے سچا وعدہ کیا تو ہو گا فضول یکسر
ہمیں یقیں آ سکے گا کیسے، تمھیں کہاں اعتبار ہو گا

پولیس والے پکڑ پکڑ کر جو آج لٹکا رہے ہیں اُلٹا
میں مقتدر بن گیا تو اک اک یمین ہو گا یسار ہو گا

ہزار کاما سہی مگر افسروں کی نظروں میں کچھ نہیں ہوں
کروں گا میں چاپلوسی سب کی تو میرا بیڑہ بھی پار ہو گا

Advertisements