یہ کارِ بیکاری کریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں
آؤ سیاست ہی چریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

آنکھوں کا پردہ تو رہا عشاق میں نہ حُسن میں
’’پرنے‘‘ ہیں اور نہ چادریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کچھ حُسن والے مطلقاً حُسنِ بیاں رکھتے نہیں
لہجے ہیں یا ہیں ٹھوکریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کیسا ہے یہ طرزِ سخن، ہم پاس آئے تو کہا
’’ہٹ کے کھلو پچھاں مریں‘‘، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

یہ دورِ’’ آئی ٹی ‘‘ہے سو آپس میں ہی دکھ سُکھ کہو
نہ گوریاں نہ گاگریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

جب ایک گھر میں برتنوں کی شکل میں موجود ہیں
تو کیوں نہ ٹکرایا کریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

شغلِ چغل خوری سے ہو جاتا ہے ہلکا پیٹ کچھ
اوروں پہ ڈپریشن دھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اہلِ نظر بننا ہے تو ضعفِ بصارت کس لئے؟
کھاتے رہو سب گاجریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اب بیٹھ کر باقاعدہ میرٹ پہ کر لیں فیصلہ
کن کن حسینوں پہ مریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

کس عمر میں وعدہ کسی سے کر رہے ہیں ہم نفس!
بادام کی ہیں آفریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

ہم عمر ہو کر’’میڈمیں‘‘ہیں اس قدرشاداب کیوں؟
واں کاکلیں، یاں جھالریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

بیکار، اہلِ کار ہیں، کیوں اپنے طالع میں نہیں؟
چم چم چمکتی موٹریں ، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

لب بستہ ہو جاتے ہیںکیوں جب بولنے پر آتی ہیں
یہ بیویاں،یہ ٹیچریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

جیسے بہ وقتِ گفتگو، تگڑوں سے دب جاتے ہیں سب
ویسے خدا سے بھی ڈریں ، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

یوں خاک ہوں ہم تم رواں، پائیں لفافوں کے نشاں
تو لطق میں چابی بھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

اہلِ صحافت سے کوئی متھا لگا سکتا نہیں
دے دیں گے منہ میںفیڈریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

پھر گرم گفتاری کا چو لہاآن کر دو آن کر
کیوں سرد مہری سے ٹھریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

غوطے لگانا سیکھ لیں بے فیض باتوں کے ظفرؔ
ہر نیوز چینل میں تریں، کچھ تم کہو کچھ ہم کہیں

Advertisements