رہے بیمارِغمِ شیریں نوا لاحاصل
لوگ کھلواتے رہے تلخ دوا لاحاصل

حسن والے تو سبھی اونچی ہوائوں میں ملے
ڈہونڈتا رہ گیا میں جنسِ وفا لاحاصل

اللہ رکھی چلی آئی ہے حنا تھوپے ہوئے
میں نے مانگی تھی مسمات حنا لاحاصل

ماڈرن بنتا گیا، بنتا گیا، بنتا گیا
بسکہ اب لگتا ہے وہ خواجہ سرا لاحاصل

ووٹ اُن کا بھی مرے حق میں کہاں آیا ہے
تیرے پپا کو بنایا تھا چچا لاحاصل

دے گیا کارڈ عدو عقد کا آ کر اور میں
مانگتا رہ گیا ملنے کی دعا لاحاصل

اُس نے جو کرنے کی ٹھانی تھی، کیا اور گیا
میں دکھاتا رہا دھمکی کا چھُرا، لاحاصل

اپنے جیون کو مرے نام ہی کر دے، ظالم!
تونے ہو جانا ہے اک روز فنا لاحاصل

آج اک سانڈ کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا
عمر بھر ہم نے تو کھائی ہے غذا لاحاصل

جلنے کڑھنے سے کوئی کام کہاں ہوتا ہے
بنتا جاتا ہے کوئی اُلٹا توا، لاحاصل

کب کسی عہد کے عشاق نے عبرت پکڑی
عشق میں قیس نے پائی ہے سزا لاحاصل

ڈہونڈتے پھرتے ہیں غالبؔ کے طرفدار ظفرؔ
دختِ رذ میں میری چائے کا مزا لاحاصل

Advertisements