کیا کریں گے وہ بھلا سوزِ جگر کی تشریح
جن سے ہو پاتی نہیں میری نظر کی تشریح

کسی ٹھہراؤ کی خاطر تھا سفر کا جوکھم
اور منزل ہے کسی اور سفر کی تشریح

داستاں گو سے کبھی آپ بھی پوچھیں تو سہی
کیوں ہے ظلمت کے حوالے سے سحر کی تشریح

جس کی بیدردی کا افسانہ جہاں بھر نے پڑھا
اُس پہ کُھلتی ہی نہیں دیدۂ کی تشریح

نئے امکانوں کی تفہیم وہی لاتے ہیں
جن کناروں سے الجھتی ہے بھنور کی تشریح

لوگ ملتے ہیں تو تفہیم کے در کھلتے ہیں
بند دروازوں سے ہوتی نہیں گھر کی تشریح

خود کو کھونے کی کہانی کوئی بتلائے کیا
مجھ سے ہو سکتی نہیں اپنی خبر کی تشریح

دلِ ویراں ہے نگاہوں کے عجائب گھر میں
دیکھنے والوں سے پوچھیں گے کھنڈر کی تشریح

کیسے اوہام کی بجتی ہیں دفیں راتوں میں
ڈرنے والوں سے بھی ہوتی نہیں ڈر کی تشریح

یہ الگ بات کہ اسلوب جدا ہے سب کا
ہر زمانے سے سنی زخمِ ہنر کی تشریح

کسی آئینہ پہ ایمان کہاں رکھتے ہیں
مانتے ہیں وہ کسی عدلِ دگر کی تشریح

طعنۂ چُپ بھی وہ دینا نہیں بھولے ہیں کبھی
اور خوش بھی نہیں آتی ہے ظفر کی تشریح

Advertisements