دل میں سرکار کے اذکار سے خوشبو آئی
کس قدر نطق سے گفتار سے خوشبو آئی

ہر زمانہ تھا کسی غارِ حرا سا تیرہ
اِک اُسی منبع ضوبار سے خوشبو آئی

کیوں مہکتے نہ نقاط ہائے مکان و لا مکاں
جب خوئے ریشمیں پرکار سے خوشبو آئی

جس محبت سے بنایا ہے خدا نے ہم کو
اُسی تہذیب کی کردار سے خوشبو آئی

بزمِ کونین سجائی گئی اُن کی خاطر!
ایک گل کی سبھی گلزار سے خوشبو آئی

تقشۂ طالع پہ رکھا جو رہ بطحا کو
ہر ڈگر قریۂ انوار سے خوشبو آئی

اسوۂ حسنہ سے ہر رستہ سمن بار ہوا
ذیست کی وادیٔ پُرخار سے خوشبو آئی

تحفۂ موسمِِ گل ہے اُسی دامن کی عطا
جس کے ہر روپ کے اثمار سے خوشبو آئی

لبِ اظہار نے چھڑکا ہے ظفرؔ عطرِدرود
سو بہر سودرودیوار سے خوشبو آئی

Advertisements