خود کو مرغِ زرفشاں پائے بطخ
ہر بطخ لیکن نظر آئے بطخ

لے اُڑے بیساختہ بطخے کا دل
جب چلے تو کیا کیا مٹکائے بطخ

لائے تھے دلہن بنا کر فاختہ
بن کے بیگم ہم کو دہلائے بطخ

یوں تو ہے اسمارٹ ہر لڑکی مگر
عقد ہو تو بن کے رہ جائے بطخ

لوچ باتوں میں عجب کوئل سا ہے
جسم کے سارے ہی پیرائے بطخ

ویسے ہی نخرے دکھائے گی سدا
جس طرح کے ہوں گے آبائے بطخ

فائدہ سلمنگ کلینک کا بھلا
جب محلے بھر میں کہلائے بطخ

خواب پریوں کے نظر آنے لگیں
دلربا ہیں ایسے اسمائے بطخ

موج میں آ آکے یوں قیں قیں کرے
تان سینوں کو بھی شرمائے بطخ

بھونڈ پن میں اس قدر اندھا نہ بن
جوہڑوں کو ہی نہ لے جائے بطخ

نوجواں کھا جاتے ہیں دھوکہ ظفرؔ
فیس بک پرآ کے غزلائے بطخ

Advertisements