وہ لڑکی عاملہ ہے جو لتر اُتار دے
یہ ہر قسم کے بھوت کو یکسر اُتار دے

تم نے تو جانا ہو گا پرستان کی طرف
یوں کر کہ راہ میں مجھے دفتر اُتار دے

کیوں آپ اپنے کام نہ آیا کرے کوئی
کیوں ناریل درخت سے بندر اُتار دے

گاڑی نئی خرید کے شو مارتا ہے وہ
ٹکر لگا اک ایسی کہ بمپر اُتار دے

کس منہ سے گول بوٹی طلب کر رہا ہے تو
بوٹی کہیں تری ہی نہ بچر اُتار دے

لگنے لگا ہے بزم میں شادی شدہ یونہی
چہرے سے اپنے دیدہء مضطر اُتار دے

اوروں سے خیر کا ہے طلبگار تو میاں
تو بھی تو اپنے ذہن سے گوبر اُتار دے

تو لیڈروں کے فیض کو پہچان جائے گا
جب ڈنک تیرے جسم میں مچھر اُتار دے

پھر سے طوافِ کوچہء پنکی میں ہے ظفر
اس کا نشہ نہ کوئی مچھندر اُتار دے

Advertisements