پاؤں سے جو بندھا ہے وہ چکر اُتار دے
آوارگی کے شوق کو گھر پر اُتار دے

کب تک کسی کی یاد کو دل سے لگائے گا
یونہی چڑھی ہوئی ہے یہ سر پر، اُتار دے

اک عمر کے سفر سے بدن ہے نڈھال سا
یہ وہ تھکن نہیں ہے کہ سو کر اُتار دے

ظلمت کسی بھی دُرز سے داخل نہ ہو سکے
ہر آسماں پہ چاند کا منظر اُتار دے

آخر رہے گی ہجر کی عدت میں کب تلک
ماتھے سے ایک نام کا جھومر اُتار دے

جب بھی کسی کے ذکر کے دامن کو تھام لے
اشعار میں دھنک سی سخنور اُتار لے

یوں اشتہار تجھ سے اُتارے نہ جائیں گے
دیوار کا تمام پلستر اُتار دے

کب تک جئے گا بیتی ہوئی ساعتوں میں تو
گزرے ہوئے برس کا کلینڈر اُتار دے

خاموش ہو تو جیسے سزا دیتا ہو مجھے
بولے تو جیسے روح میں خنجر اُتار دے

اس تشنگی کی آگ نے بجھنا نہیں ظفر
چاہے تو خود میں سارا سمندر اُتار دے

Advertisements