کیسی سر چڑھ کے آ رہی ہے ہوا
سر سے وگ کو اُڑا رہی ہے ہوا

اب پلوشن کی ہم مذاق ہوئی
کل تلک باصفا رہی ہے ہوا

صحنِ گلشن میں کیوں ہے چک پھیری
کچھ تو چکر چلا رہی ہے ہوا

رشتہء بے تکلفی تو نہیں
بے وجہ گدگدارہی ہے ہوا

خوشبوؤں سے فلرٹ کرتی ہے
گُل یہ کیسے کھلا رہی ہے ہوا

اُن کی زلفوں کو کر دیا برہم
کس قدر بے حیا رہی ہے ہوا

کیوں سیاست کو ہو گیا ہے دمہ
ہر طرف دندنا رہی ہے ہوا

ایڈوائس ٹرمپ سے لائی ہے کیا؟
آندھی بن کر ڈرا رہی ہے ہوا

ہم ہیں "اکے” ہوئے جہاں بھر سے
اور شوخی دکھا رہی ہے ہوا

کل کو پاتال میں پٹخ ہی نہ دے
بانس پر اب چڑھا رہی ہے ہوا

Advertisements