تشنگی لب پر دھری ہے آج بھی
وقت کی چھاگل بھری ہے آج بھی

برگِ دل پر اوس سی ہے ہجر کی
کوئی ساعت رس بھری ہے آج بھی

دھوپ کے مقتل میں بھی ہے سرخرو
زندگی کی خود سری ہے آج بھی

راستےہیں پر نظر آتے نہیں
کوئی سحرِ آزری ہے آج بھی

ہجر کا طوفاں تو کب کا جا چکا
مجھ میں خاصی ابتری ہے آج بھی

خود سے کرتا ہی نہیں مجھ کو رہا
اُس کی بندہ پروری ہے آج بھی

اب بھی ہے پیمانہء سو و ذیاں
عشق تو سوداگری ہے آج بھی

دامنِ دل تو دریدہ ہے ہنوز
دعویء بخیہ گری ہے آج بھی

بولتے ہیں رنگ چہرے کے ظفر
جذبِ دل کی مخبری ہے آج بھی

Advertisements