دل بھاگ بھری پر ریجھا ہے
یہ بھوت پری پر ریجھا ہے

خود دیکھا نہیں منہ مدت سے
اور شیشہ گری پر ریجھا ہے

درکار کُڑی ہر منڈے کو
ہر کھوٹی کھری پر ریجھا ہے

ملتان سی فطرت ہے اُس کی
جو کوہِ مری پر ریجھا ہے

بھاتی نہیں مرغی گھر کی اُسے
غیروں کی curry پر ریجھا ہے

جنجال بنے گی بعد از عقد
جس عشوہ گری پر ریجھا ہے

جب دری کی بھی اوقات نہیں
کیوں بارہ دری پر ریجھا ہے

سبزہ ہے کہ کائی کیا جانے
بس ہری ہری پر ریجھا ہے

اک خادم کنگلی قوم کا ہے
طرہء زری پر ریجھا ہے

سامانِ ظرافت بھی تھا مگر
شاعر تو worry پر ریجھا ہے

Advertisements