پھر سے گھر آن بسا روتا ہوا نووارد
سالِ نو کا کوئی ماڈل ہے نیا نووارد

سینئر کی بڑی عزت ہے نگھر گھٹ کے ہاں
ہر کوئی بیٹھا ہوا اور کھڑا نووارد

یہ اُسی حُسنِ مجسم کا ہے ابّا، پیارے
پوچھتا پھرتا ہے تو جس کا پتہ نووارد!

آخرِ کار وہیں سے ترا ہونا ہے گزر
تونے کھودا تھا جہاں ایک گڑھا نووارد

کوئی نقشہ ترا تبدیل بھی کر سکتا ہے
بیل پہ رکھا ہوا یہ ہاتھ ہٹا نووارد

سگِ لیلیٰ بھی ہے لیلیٰ کی محبت میں شریک
دلبری اِن سے بھی لازم ہے ذرانووارد!

میں نہیں ہوتا تو پھر پوچھتا بھی پھرتا ہے
میرے ہونے پہ بھی ہوتا ہے خفا نووارد

تیرے دل میںنہ جگہ مل سکی برسوں میں بھی
تیری محفل میں رہا ہوں میں سدا نووارد

یہ تکلف کا جو پردہ ہے، ہٹا بھی دیجے
کب تلک آپ نے رہنا ہے بھلا نووارد

Advertisements