کبھی کبھی تو بہت آتا ہے مدینہ یاد
نفس نفس میں بپا ہونے لگتا ہے میلاد

درودِ پاک سدا سے ہے نغمہ دھڑکن کا
کہاں رہا ہے کبھی عشق منتِ اعداد

وہ ساعتیں جو ترے ذکر کے نمو میں ہیں
اُنہیں سے عمر کے ویرانے ہو گئے آباد

صراطِ اسوۂ حسنہ ہے کہکشاں کی طرح
گریز پائی نے کر دی ہے خاک ہی برباد

کیا وہی ہے جو قران میں ہے لکھا ہوا
کہا وہی ہے جو مولائے کل کا ہے ارشاد

ترے پیام سے تزئینِ گلشنِ ہستی
ترے جمال سے فصلِ بہار کی بنیاد

لکھی ہے تونے ہی تاریخِ اوجِ انسانی
شبِ معراج سبھی مہر و مہ رہے اِشہاد

ترا ہی نور رہے گا ازل سے تا بہ ابد
کوئی چراغِ نبوت نہیں ہے تیرے بعد

مدد مدد کہ ترے نام لیوا ہیں معتوب
سرینگر ہو کہ روہنگیا ہو یا بغداد

Advertisements