سر کیوں اُٹھائے ظلم کہ تسطیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)
غیرت نے جو لکھی ہے وہ تحریر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

لحہ بہ لمحہ وقت کے ہاتھوں میں اک دیا
حلقہ بہ حلقہ ایک ہی زنجیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

کیسے عدوِ دین کی بر آئے آرزو
دینِ مبیں کے ہاتھ میں شمشیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

ہر دور کے یزید پہ جس کا ہے دبدبہ
تا بہ ابد وہ نعرہء تکبیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

تاریخ کے منڈیر کی قندیل کربلا
گویا ہر اک زمانے کی تنویر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

جو مقصدِ حیات دیا ہے قران نے
اُس مقصدِ حیات کی تفسیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

حق چھا گیا جہاں میں ہمیشہ کے واسطے
بے نام ہے یزید، جہانگیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

بخشی ہیں سربلندیاں نانا کے دین کو
انسانیت کا تمغہء توقیر ہے حسین (رضی اللہ عنہ)

Advertisements