میرے پلے نہ پڑی تیری ادا عید کے دن
تو نے مس کال میں کیا مجھ کو کہا عید کے دن

تیرے گھر سے بھی میں ہو آیا میانِ شیخاں
گھوریاں ڈالے رہا تیرا پپا عید کے دن

حُسن جلوؤں کے کئی رنگ لئے آیا تھا
دلِ ٹھرکی میرے ہاتھوں سے گیا عید کے دن

تنگ کتنوں کو کیا، جب بھی پہن کر آیا
جامہء تنگ کوئی جانِ حیا عید کے دن

کتنے شبہات سرِ دیدہء زوجہ دیکھے
جب بصد شوق میں تیار ہوا عید کے دن

تیرے شاعر کی وہیں چیخ نکلتے دیکھی
روزہ خوروں سے جہاں عید ملا عید کے دن

لوٹ لیتے تیرے بچے بھی بنامِ عیدی
میں نہ بن جاتا اگر چکنا گھڑاعید کے دن

وہ غرارے میں تھی سو میں نے بھی تہمد پہنا
یونیفارم ایک محبت کا رہاعید کے دن

نفسِ امارہ کا روزہ سرِ رمضان رہا
سب نے دل کھول کے افطار کیاعید کے دن

لے اُڑا جوتی مری کوئی بطورِ عیدی
برہنہ پاؤں میں مسجد سے چلاعید کے دن

دورِ پیزا کی ہے یہ پود، بھلا کیا جانے
کیسا لگتا ہے سویوں کا مزاعید کے دن

Advertisements