بات جو حق پر آن پڑی ہے
سرِ ہتھیلی جان پڑی ہے

دل نگری آباد تھی تجھ سے
اب تو یہ سنسان پڑی ہے

ہونی تھی الفت اب اس میں
انہونی کیا آن پڑی ہے

خاروں خار ہیں لوگ جہاں پر
پھولوں کی مسکان پڑی ہے

راہی چلتے ہی جاتے ہیں
منزل بے امکان پڑی ہے

خلقِ خدا کیا صوتِ سگاں ہے
پیچھے کیوں ہر آن پڑی ہے

چاروں اور ہیں خون کے دھبے
اور کٹیا ویران پڑی ہے

ہر گھمبیر سکوت کے پیچھے
رودادِ طوفان پڑی ہے

ترکِ وفا کیا خاک کرو گے
جب فکرِ تاوان پڑی ہے

سوختہ ساماں یاد ہے کس کی
صورتِ لوبان پڑی ہے

جب سے کافر ہوا ہے یہ دل
بنیادِ ایمان پڑی ہے

اُس کی باتیں توبہ توبہ
لگتا ہے کرپان پڑی ہے

دل کا خون کیا ہے شامل
تب لفظوں میں جان پڑی ہے

Advertisements