تاحشرمعلم ہیں کہ جو اُمّی لقب ہیں
وہ علم کا عرفان ہیں وہ گنجِ ادب ہیں

یہ موجِ لہو کیا مجھے زنجیر کرے گی
وہ میرا حوالہ ہیں مرا نام و نسب ہیں

اژدر کبھی ظلمت کا نگھل سکتا نہیں ہے
اُس نام کے انجم جو سرِ عرصۂ شب ہیں

اُس اسم کی لذت ہے کہ بشاشتِ جاں ہے
اُس ذکر کے تمغے ہیں کہ زیبائشِ لب ہیں

یہ سلسلۂ عشقِ محمد ہے خدائی
ہم اُن کے پرستار ہیں جو الفتِ رب ہیں

وہ دل ہیں دمیدہ کہ ہیں وابستۂ طیبہ
وہ آنکھیں سلامت ہیں کہ دیدار طلب ہیں

ہر دور کے دامن کو معظر کئے رکھا
وہ ایسے گُلِ تر سرِ صحرائے عرب ہیں

ان خشک زمینوں پہ پڑے ابرِ شفاعت
یہ اشکِ ندامت مری بخشش کا سبب ہیں

امریکنوں سے کیسی ہے امید۔۔۔ ظفر ؔجی
یہ دشمنِ دیں آپ کے پہلے تھے نہ اب ہیں

Advertisements