خفا ہیں یاروں پہ کیوں فوقیت نہیں ہوتی
وہ جن کی گھر بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی

جو منچلے ہیں کہاں مانتے ہیں عقل کی بات
کسی شمار میں یہ اقلیت نہیں ہوتی

جو گفتگو میں سیاست کا تذکرہ آئے
کسی بھی بات میں معقولیت نہیں ہوتی

بس ایک جاب ہے لیلیٰ کی ناز برداری
کچھ اور قیس کی مصروفیت نہیں ہوتی

میں گھر میں ہوں تو عبث ہے یہ پرسشِ احوال
میں ہوں وہاں کہ جہاں خیریت نہیں ہوتی

ہزار دل سے کریں روئتِ ہلال کا کام
جو تاڑؤں میں ہے وہ محویت نہیں ہوتی

یوں حق پرستی کا اظہار بھی ہے اپنی جگہ
مگر جو بات غلط ہے "غلت” نہیں ہوتی

میں خاک دل کی عدالت سے سرخرو نکلوں
مرے جنون میں "عمرانیت” نہیں ہوتی

عجب عجب کہ بلاتے ہیں عقد پر سب کو
غضب غضب کہ کوئی تعزیت نہیں ہوتی

جہاں بھی جاؤ گے عالم میں پاؤ گے اس کو
کسی چغد کی کوئی قومیت نہیں ہوتی

ظفر یوں ہجر کی ہر بیوگی کلام میں ہے
جو ہونی چاہیئے وہ شعریت نہیں ہوتی

Advertisements