ہم بھی ہیں شہرِ وفا کے وارث
گویا جنت کی فضا کے وارث

اُن ؐکے بیمار کی عظمت دیکھی
مرکزِ بادِ شفا کے وارث

ہوں گے قارونِ زماں سے بڑھ کر
دولتِ غارِ حرا کے وارث

دے گئے کون و مکاں کا ورثہ
وہ ہمیں اپنا بنا کے وارث

کر کےآئے ہیں سفر صدیوں کا
دور تک پھیلی ضیا کے وارث

نعرۂ حق ہے اُنہیںؐ کی سنت
ہر خموشی میں نوا کے وارث

دل ہے معمورۂ عشقِ احمدؐ
گویا ہیں جذبِ خدا کے وارث

فکر کرتے ہیں بہ عنوانِ امید
شافعِ روزِ جزا کے وارث

جب سے مدحت کی ہوئی ہے توفیق
ہو گئے آہِ رسا کے وارث

نام لیوائے نبیؐ ہیں کیانیؔ
ہر سُو اقدارِ صفا کے وارث

Advertisements