جب کہیں کوئی نہیں ہے تو ہے کیسی آہٹ
کیسے جائے گی مرے دھیان سے لپٹی آہٹ

خوش گمانی نے عجب شغل لگائے رکھا
کبھی دستک کوئی جاگی کبھی گونجی آہٹ

روشنی کیوں رہی امکان کی حد سے بھی پرے
جب سرِ زینۂ شب جاگ اُٹھی تھی آہٹ

حجرۂ خواب سے نکلا تو عجب کیف میں تھا
سرسراتی رہی اطراف میں یونہی آہٹ

مجھ سے اٹکھیلیاں کرتا رہا اک شوخ گماں
مجھ کو چونکاتی رہی ہے میری اپنی آہٹ

سارے منظر ہیں زمانے کی ہوا کا ہدیہ
اپنے اندر سے نہ آئی مجھے کوئی آہٹ

جو مٹا تا رہا رستے سے ہر اک نقشِ قدم
نقش ہے اب بھی مرے دل میں اُسی کی آہٹ

میری دھڑکن کو ترے سینے کا روزن نہ ملا
میری ہر چپ میں سے رِستی رہی تیری آہٹ

ایک سایہ سا ہمہ وقت مرے ساتھ رہا
ایک خوشبو سی بکھیرے رہی پگلی آہٹ

Advertisements