میں کیا کرتا تکرار کہ تھی مؤنث
گوارہ رہی’’ ہار‘‘ کہ تھی مؤنث

عدالت میں پیش ہو سکا نہ مرا دل
وہ تھی خوں کی حقدار کہ تھی مؤنث

میں خرگوش رُو ’’کچھوا ‘‘بن کر تھا پیچھے
تھی کم اُس کی رفتار کہ تھی مؤنث

وہ تھی بس یونہی سی مگر پھر بھی ہر سو
تھی بھونڈوں کی بھرمارکہ تھی مؤنث

اِدھر شیو میں گم شدہ میرا چہرہ
واں ’’میک اپ‘‘ کے انوار کہ تھی مؤنث

اُسے تاڑمیں رکھنا دشوار تر تھا
یوں چوکس تھا ریڈار کہ تھی مؤنث

میں چاہتا تھا اِس عید پر تگڑا بکرا
اُسے ’’پنک‘‘ درکار کہ تھی مؤنث

وہ کالج میں تھی تو ہراک نوجواں کا
روا اُس سے تھا پیارکہ تھی مؤنث

وہ پھولوں بھری رہگزر کی طرح تھی
مگرکب تھی ہموار کہ تھی مؤنث

ظفر ترکِ الفت سے ہیں ’’ستاں خیراں‘‘
اُسی سے تھے اشرار کہ تھی مؤنث

Advertisements