سارے لیڈر ٹوٹ بٹوٹ
اور متواتر ٹوٹ بٹوٹ

ایک حصارِ سحر میں قوم
جنتر منتر ٹوٹ بٹوٹ

اب ہے سیاست ایک دھمال
مست قلندر ٹوٹ بٹوٹ

مکر کی آندھی ہے باندی
جھوٹ کا چکر ٹوٹ بٹوٹ

جیسے اکڑ بکڑ ہم
ویسے رہبر ٹوٹ بٹوٹ

بدعنوانی اک دلدل
جس کے اندر ٹوٹ بٹوٹ

گردن گردن اُترے ہیں
اس میں برابر ٹوٹ بٹوٹ

کیچڑستاں سب اعمال
سنگِ مرمر ٹوٹ بٹوٹ

نام کے راجہ، شیخ، میاں
کام کے شودر ٹوٹ بٹوٹ

پانامہ کا جن ظاہر
پھر بھی مچھندر ٹوٹ بٹوٹ

اب تو زہروں زہر ہوئے
اندر باہر ٹوٹ بٹوٹ

دیوارِ گریہ پر بھی
تھاپے گوبر ٹوٹ بٹوٹ

جل دے جاتے ہیں کیسے
ہو کر ازبر ٹوٹ بٹوٹ

ڈھیٹ پنے کی پہنے ہیں
زرہ بکتر ٹوٹ بٹوٹ

’’زندہ باد‘‘ ہوئے پھر سے
نعرے سُن کر ٹوٹ بٹوٹ

ایسی قلابازی کھائیں
لگتے ہیں بندر ٹوٹ بٹوٹ

جن کو اِس دھرتی نے جنا
وہ بھی مہاجر ٹوٹ بٹوٹ

ایک نہالِ آس نہیں
سارے بنجر ٹوٹ بٹوٹ

قوم کی کوئی فکر نہیں
آپ ہیں محور ٹوٹ بٹوٹ

نیوز کا ہرچینل پنڈال
اور زور آور ٹوٹ بٹوٹ

ہر دم نورا کشتی ہے
ہر دم ٹرٹر ٹوٹ بٹوٹ

کون سی لاٹھی سے ہوں گے
تتر بتر ٹوٹ بٹوٹ

Advertisements