ہر بات پر ہے ہر کوئی گو مائلِ بحث
یہ اور بات کچھ بھی نہیں حاصلِ بحث

کچھ بھی بتا نہ پایا کہ جو بات کی گئی
سر کو کھجاتا رہ گیا ہر ناقلِ بحث

اُس پر بھی عاقلوں میں ہیں گھنٹوں کے معرکے
وہ بات جو سرے سے نہ تھی قابلِ بحث

زور آوروں نے پسٹل جو ٹیبل پہ دھر دیا
آسانی سے نمٹ گئی ہر مشکلِ بحث

جو ’’تُک‘‘ کی ہانکتے تھے ،فقط منمناتے تھے
شورش بپا رہا ہے بہت جاہلِ بحث

محفل میں میری ذات تھی موضوعِ گفتگو
مجھ کو بھی کاش کرتا کوئی شاملِ بحث

بے اختیارپھونکیں کوئی مارنے لگا
آئی ہمارے سامنے جب مشعلِ بحث

باہرسے کوئی بم نہیں آیا تھا بزم میں
ہر اک شریکِ بحث رہا قاتلِ بحث

اینکر تو ٹاک شو زمیں شمشیر زن رہے
چینل کے ناظرین ہوئے بسملِ بحث

جس بات سے گریز کی تجویز تھی ظفر
وہ بات بھی رہی ہے بہت داخلِ بحث

Advertisements