جب عقد کے پھندے میں ہوں مقدور یقیناً
ہر لڑکی نے آنا ہے نظر حور یقیناً

جو پوز کیا کرتا ہے خود کو کوئی ہیرو
اوروں کو نظر آتا ہے لنگور یقیناً

مجھ کو بھی محبت میں بہت پینجا گیا ہے
ویسے تو میاں مجنوں ہیں مشہور یقیناً

تکرارمیں باتوں سےتو جی سیر نہ ہو گا
گھونسہ ہی جواب اس کا ہے بھرپور یقیناً

دفتر میں جو چنگیز بنے پھرتے ہیں اکثر
گھر پر اُنہیں دیکھا گیا مقہور یقیناً

کیوں ازرہِ اخلاق اُنہیں جھک کے ملے تھے
ہونا ہی تھا اُس شوخ نے مغرور یقیناً

پاتا ہوں عطا اللہ کے گانوں کی سزا میں
ہوتا ہوں میں جب بھی کبھی رنجور یقیناً

اب ذکر سیاست پہ یہی ذہن میں آئے
دولت کی دُھلائی کا ہے مذکور یقیناً

مل جاتی ہے شاعر کو بھی اب داد سخن کی
پا لیتا ہے اجرت تیرا مزدور یقیناً

Advertisements