جسے کہتا ہوں جانِ من یقیناً
وہی پھنسوائے گی گردن یقیناً

بتاتا ہے ترا طرزِ خطابت
بسوں میں بیچا ہے منجن یقیناً

جو "کپڑے مع میاں” دھوتی ہے اکثر
ہر اک بیوی ہے وہ دھوبن یقیناً

وہ جس کو ساس کہتا ہے زمانہ
اُسی کا نام ہے الجھن یقیناً

یہ جو ہے نقشِ پا ماتھے پہ تیرے
یہی ہے عشق کا ٹوکن یقیناً

ہمارے سارے لیڈر اللہ اللہ
کبوتر ہیں نرے لوٹن یقیناً

نصیبِ دشمناں بریانیاں ہیں
مرے حصے میں ہے کھرچن یقیناً

بلم کے شوقِ مکہ بازی سے ہے
یہ دائیں آنکھ کی سوجن یقیناً

مری بیوی کو بھی لگتی تو ہو گی
مری یہ شاعری سوتن یقیناً

Advertisements