دل کہیں لگتا نہیں طیبہ پلٹ
راس اپنی موڑ، پھر رستہ پلٹ

بندگی پر گردِ دنیا کیوں پڑے
اپنا اندر صاف کر ، سایہ پلٹ

گمرہی کے رستوں سے کر مفر
پھر مدینے کی طرف پہیہ پلٹ

جس میں تیرے نقش دھندلانے لگیں
آئینہ گر کو وہ آئینہ پلٹ

دور تونے رہ لیا خود سے بہت
دیر مت کر، جانبِ کعبہ پلٹ!

عمر ہے اب ریزگاری کی طرح
وقت ہے کچھ سوچ، کر توبہ ، پلٹ!

بس خمارِ عشقِ احمد ہے بہت
کیا کرے گا لے کے پیمانہ، پلٹ!

ساتھ میں اذنِ حضوری چاہیئے
یونہی مل جاتا نہیں ویزہ، پلٹ!

اِتنی بے مایہ نہیں ہے زندگی
راکھ میں خفتہ ہے انگارہ، پلٹً!

زندگانی کا قرینہ سیکھ لے
پھر سے سوئے اسوۂ حسنہ پلٹ

روشنی کا راستہ روکا نہ کر
دل کا روزن کھول دے، پردہ پلٹ

Advertisements