لب پہ پھر مسکرا رہی ہے نعت
دل کو طیبہ بنا رہی ہے نعت

نور ہی نور ہر طرف پھیلا
کیف میں سب کو لا رہی ہے نعت

پڑھنے والے پہ وجد طاری ہے
سننے والے پہ چھا رہی ہے نعت

اسمِ خیر الانام ہے لب پر
خوشبوؤں میں بسا رہی ہے نعت

ذکر کے اک عجب حصار میں ہوں
دور تک جگمگا رہی ہے نعت

ذیست بزمِ درود لگتی ہے
رنگ کیسا جما رہی ہے نعت

رات تادیر رُک سکے گی کیا
مجھ میں سورج جگا رہی ہے نعت

سلسلہ یہ وہیں سے جاری ہوا
کاوشِ کبریا رہی ہے نعت

میں بھٹکتا دیارِ عشق میں کیوں
مجھ کو رستہ دکھا رہی ہے نعت

استطاعت کہاں ہے لکھنے کی
خود کو لکھواتی جا رہی ہے نعت

روحِ بیمار کھِل اُٹھے گی ظفر
اک نویدِ شفا رہی ہے نعت

Advertisements