اب سخن میں نہیں آتی ہے حسینوں کی تڑپ
اُن کے روزے سے لپٹ جاتی ہے سوچوں کی تڑپ

اُن کے در سے کہاں مایوس گیا کوئی سمے
روشنی لے کے گئی کتنے زمانوں کی تڑپ

دستِ امید نہیں ہٹتا کبھی کاندھوں سے
بارور ہو گی کبھی اُن کے گدائوں کی تڑپ

کھنچتی جاتی ہے اُسی مرکزِ رحمت کی طرف
قابلِ دید ہے بھٹکے ہوئے لوگوں کی تڑپ

اُسی جلوے کی تمنائی مری آنکھیں ہیں
وہی آنکھوں کے دریچے میں ہے خوابوں کی تڑپ

اِن کو درکار ہے بطحا کی ہوائے دلجو!
ایک آتش سی لئے ہے میری سانسوں کی تڑپ

اُن کا پیغام صبا لاتی رہے گی ہر پل
جب تلک طالعِ گلشن میں ہے پھولوں کی تڑپ

میری گفتار میں ہے ذکرِ مدینہ کیا کیا
میرے کردار میں ہے کتنے فسانوں کی تڑپ

گنبدِ سبز سدا سامنے رہتا ہے ظفر
ہونے دیتی نہیں اوجھل اسے نظروں کی تڑپ

Advertisements