درد با وصفِ شکیبائی چھلک جاتا ہے
کوئی آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جاتا ہے

خامشی پہنی تھی اوروں سے زیادہ میں نے
دیکھنے والوں کا کیوں مجھ پہ ہی شک جاتا ہے

دل کے آوازے کو زنجیر بھی پہنا دیکھی
یہ مگر صورتِ پازیب چھنک جاتا ہے

کبھی رہنے نہیں دیتا ہے تہی دست مجھے
جو بھی آتا ہے کوئی دے کے کسک جاتا ہے

بددعا سی ہے مسافر کو کسی کی شائد
پاس آ جاتی ہے منزل تو بھٹک جاتا ہے

جب کبھی دل میں تری یاد کی لو جاگتی ہے
میرے اندر کوئی بچہ سا ہمک جاتا ہے

کالے کوسوں کے مسافر کو سکوں خاک ملے
اپنی جانب بھی تو چلتے ہوئے تھک جاتا ہے

تشنگی روح کی بجھتے نہیں دیکھی ہے کبھی
ویسے جانے کو تو لب جام تلک جاتا ہے

اِس کو پاتال میں گرتے ہوئے بھی دیکھا ہے
یہ زمیں زاد جہاں تابہ فلک جاتا ہے

Advertisements