اگر ہے نعتِ نبی کی خواہش تو روشنائی یہ معتبر ہے
اِسی سے موزوں بنے گی کاوش یہ خونِ دل ہے یہ چشمِ تر ہے

وہ ساعتوں کے صدف کہ جن سے ملے ہیں اُن کی ثنا کے گوہر
یہ اِتنے برسوں کی زندگی بس اُنہیں کے صدقے میں بارور ہے

اُنہیں کے ذکرِ مزکّی سے ہو گئی ہے سرشارزندگانی
زمانے کی دھوپ میں ہمارے لئے یہی سایہء شجر ہے

مجھے یقیں ہے کہ خارزاروں میں بھی گلِ تر ہے میرا طالع
نبی کی ذاتِ حمید و طیب مطافِ فکر و نظر اگر ہے

یہ نعت گوئی کا کیف گویا اُڑا کے لے جائے مجھ کو بطحا
یہ میری کرسی، یہ میری لکھنے کی میز جیسے کہیں اُدھر ہے

Advertisements