تمام عالم نے فیض پایا مدینہ وہ نور کا نگر ہے
وہ جس نے دونوں جہاں اُجالے وہیں کا خورشید ہے قمر ہے

جو نعرہء لااِلہ گونجا، رہا نہ آسیب تیرگی کا
سبیلِ حق تا ابد وہی ہے جو صبحِ نوخیز کا گجر ہے

نبی کی الفت مرا اثاثہ، تہی نہ رکھے کسی کا کاسہ
یہی ہے زادِ حیات میرا، اِسی سے میری گزر بسر ہے

وہ لوحِ اول صداقتوں کی، وہ مہرِ آخر نبوتوں کی
میں کیا کہوں اُس کی رفعتوں کی مقامِ سدرہ کی تو خبر ہے

کہاں وہ آتش خمیر مخلوق اور کہاں خاک دان لیکن
بشر کی تعظیم کرتے ہیں کہ خدا کا محبوب بھی بشر ہے

اُسی کا دامن ملے گا ہم کو تو زخم صدیوں کے بھر سکیں گے
وہ آس ہے ہر مریضِ غم کی وہ ہر زمانے کا چارہ گر ہے

جو اُس کی حرمت پہ کٹ مرے ہیں وہ زندہء جاوداں ہوئے ہیں
جو زندگی اُس پہ ہے تصدق وہ چشمِ داتا میں معتبر ہے

بنی کے بتلائے راستے پر چلے تو پاﺅ گے خیر یارو!
کسی کو منزل کی فکر کیا ہو کہ کہکشاں کا اگر سفر ہے

کبھی کسی بے کنار منزل کی سمت جاتے نہیں مسافر
بھٹکنے پاتے نہیں مسافر، نبی کا اسوہ جو راہبر ہے

اُسی کے موجِ کرم نے سیراب کر دیا ہے زمانے بھر کو
وہ ایک رحمت کی آبجو ہے، وہ ایک دجلہء بے بھنور ہے

ہزار معجز بیاں ہو شاعر، مگر ہیں بیکار سب مظاہر
سلیقہء نعت گوئی نہ آ سکا تو سمجھو کہ بے ہنر ہے

Advertisements