مار زیرِ آستیں ہے ہی نہیں
یار گویا دنیا بیں ہے ہی نہیں

ٹارچ کا ہی کام کوئی لے سکے
اِس قدر روشن جبیں ہے ہی نہیں

پارلر سے جب سے ہو کر آئی ہو
کوئی تم جیسا حسیں ہے ہی نہیں

دل میں گھستا آئے کیوں جوتوں سمیت
مہرباں اپنے تئیں ہے ہی نہیں

پونچھ لوں میں ہاتھ اُس کی شال سے
اِس قدر کوئی قریں ہے ہی نہیں

یہ رہا نچڑے ہوئے لیموں کا رس
آپ کہتے تھے نہیں، ہے ہی نہیں

اُس نے دھوکہ دے دیا تو کیا ہوا
جس پہ ہم تم کو یقیں ہے ہی نہیں

میں پئے بھونڈی گیا تو یہ کھلا
اُس مکاں میں تو مکیں ہے ہی نہیں

نغز گو رو میں اُسے بھی کہہ گئے
جو سرے سے نازنیں ہے ہی نہیں

Advertisements