میں کچھ نہیں، تو سب کچھ
میں ادنیٰ تر، تو برتر
میں ایک قطرے جیسا
تو اک محیط ساگر
صناعی کے نمونے
نقش و نگارِ عالم
پروردگارِ عالم

ہر رنگ، رنگ تیرا
ہر خوشبو، خوشبو تیری
بکھری ہوئی ہے قدرت
دنیا میں ہر سو تیری
تیری جھلک دکھائے
ہر شاہکارِ عالم
پروردگارِ عالم

جو بھی زمیں کے اندر
تو اُس کا راز داں ہے
جو بھی زمیں کے اوپر
تیرا ہی نغمہ خواں ہے
کرتا ہے حمد تیری
ہرجاندارِ عالم
پروردگارِ عالم

یہ وقت کی مسافت
یہ زیست کا تبسم
یہ رحمتوں کی رم جھم
یہ دھوپ کا جہنم
تجھ سے فشارِ ہستی
تجھ سے قرارِ عالم
پروردگارِ عالم

یہ ارتقا ءکے دعوے
ہیں وہم کے مظاہر
تاریخِ ہر زماں نے
دیکھا یہی ہے ، آخر
تیری طرف ہی لوٹے
سینہ فگارِ عالم
پروردگارِ عالم

ٹوٹے بتِ زمانہ
اُتریں دلوں کے جالے
عنوانِ زندگی ہوں
پھر سے ترے حوالے
ہوجائیں تیرے تابع
سب دنیا دارِ عالم
پروردگارِ عالم

Advertisements