فی البدیپرفارمس کا سودا سخنور میں پڑ گیا
بزمِ سخن میں کاوشِ جوکر میں پڑ گیا

جمعہ کسی برات میں ناچا یوں رات بھر
کارِ خمار آن کے دفتر میں پڑ گیا

اب بھی دکھائی دیتی ہے وہ بیس سال کی
اور لگ رہا ہے جیسے میں ستر میں پڑ گیا

سچ سچ بتا! یہ کوئی گویّا ہے پاپ کا
یا بھوت تان سین کا بندر میں پڑ گیا

کہتا تھا عصرِ نو میں شریف آدمی مجھے
جو مجھ کو چھیڑتا تھا اُسے اکثر میں پڑ گیا

ہر ایک مرد کا دل ہے خوباں کا بتکدہ
عورت کا دل نہیں ہے کہ زیور میں پڑ گیا

کچھ لیڈروں سے بنتا ہے اس طور کا سوال
لوٹے کا عکس کیسے کریکٹر میں پڑ گیا

ہر سمت بس پٹھان دکھائی دئے مجھے
بندوں کا کال سارے پشاور میں پڑ گیا

کھایا ہے جس کا بیف کسی ریستوران میں
وہ بیل جا نے کیسے کسی خر میں پڑ گیا

سمجھا نہ جس نے لفٹ کے قابل کبھی مجھے
آخر کو وہ مرے ہی مقدر میں پڑ گیا

مت پوچھ تیرے ہجر میں کیا حال ہو گیا
رنگِ پپیتا جیسے چقندر میں پڑ گیا

وہ بیکلی ہے ہم کو کسی پہلو نہیں سکوں
کھٹمل تمھاری یاد کا بستر میں پڑ گیا

میں تو محبتوں کا خریدار تھا ظفر
کیوں زادِ ہجر ذیست کے شاپر میں پڑ گیا

Advertisements