بٹتے ہیں شادیوں کے چھوہارے دگڑ دگڑ
کرتے ہیں شہر بھر کے کنوارے دگڑ دگڑ

برسوں کا فاصلہ ہے ، اِسے طے کرو گے کیا
یوں دوڑتے ہیں گھوڑے تمھارے دگڑ دگڑ

ویسے ہی دندناتے ہیں اُس کی گلی میں ہم
جیسے چلے "گرائیں” ہزارے دگڑ دگڑ

پیچھے لگایا جب بھی سگِ کوئے یار کو
میرا رقیب دڑکیاں مارے دگڑ دگڑ

غیروں کی ہو گئی ہے تو پھر کس لئے خدا
اُس کو مری گلی سے گزارے دگڑ دگڑ

جھٹکے ہمارے بخت کو لگتے ہیں بے طرح
کرتے ہیں آسماں پہ ستارے دگڑ دگڑ

لیڈر تمام بحرِ کرپشن میں غوطہ زن
اور ہم بھی ہیں کنارے کنارے دگڑ دگڑ

کوئی نہیں ہے دل کا خریدار واقعی
سارے ہی آ رہے ہیں اُدھارے دگڑ دگڑ

عشاق کی ہو دشت میں ہاؤسنگ سوسائٹی
پھرتے ہیں شہر میں کیوں بچارے دگڑ دگڑ

لو نیویں نیویں ہو کے چلے بزم سے عدو
کچھ تو بھی اپنی چال دکھا رے دگڑ دگڑ

رکھتے نہیں ہیں ہاتھ بریکوں پہ زینہار
لکھتے ہیں شعر نغزگو سارے دگڑ دگڑ

Advertisements