ہر اک آرزو ہے سلیقہ طلب
رہی ہے ہمیشہ سے طیبہ طلب

شہِ ہر زمانہ کا شیدا ہوں میں
کوئی ہے تو ہو لے زمانہ طلب

معطر ہے اسمِ حبیبی سے نطق
یہ خوشبو نہیں ہے دریچہ طلب

عجب لطف ہے ذکرِ سرکار میں
رہے لب کو بس یہ وظیفہ طلب

یہ عشقِ نبی اور وہ حُبِ جہاں
یہ زم زم پسند اور وہ شعلہ طلب

اگر اُن کے در کی گدائی ملے
نہ جاہ کی ہوس ہو نہ رتبہ طلب

طریقہ ہے ہر رنگِ ہستی میں حق
طریقت نہیں اُس کی حجلہ طلب

۔۔۔ق۔۔۔
زمانے کا دجّال درپے ہوا
زبوں حال ہیں جملہ اقصیٰ طلب

یہود و نصاریٰ ہیں آتش بپا
مدینے کا زائر ہے سایہ طلب
۔۔۔۔۔۔۔

مقامِ غمِ مصطفیٰ دل میں ہے
یہ منزل نہیں ہوتی رستہ طلب

ظفر دھڑکنوں میں لکھی جاتی ہے
کہاں نعت ہوتی ہے خامہ طلب

Advertisements