کسی آنسو کی طرح میں بھی بہا آخرِ شب
قطرہء خوں سرِ رخسار ڈھلا آخرِ شب

عازمِ راہِ عدم بھی تھے عجب جادو میں
روک پائی نہ اُنہیں کوئی دعا آخرِ شب

سر پٹختی ہوئی موجوں نے پئے دہدہ وراں
اک فسانہ سرِ گرداب لکھا آخرِ شب

اب وہ محفل ہے نہ رونق ہے نہ رقاص نہ گیت
ڈوبتی جاتی ہے بربط کی صدا آخرِ شب

روشنی پھیل گئی مجھ میں نئے خوابوں کی
کیا خبر چاند نے کیا جھک کے کہا آخرِ شب

گھول بیٹھا تھا مری ذات اندھیرے میں کہیں
میرے اندر کوئی آسیب سا تھا آخرِ شب

معرکہ ظلمتِ شب سے نہ ہو گر فیصلہ کُن
ہم بجھا دیتے ہیں خود اپنا دیا آخرِ شب

چپ کا اسلوب نئے خواب جگا دیتا ہے
پھیکے پڑ جاتے ہیں جب رنگِ نوا آخرِ شب

اِتنی آیاتِ محبت کے اُترنے پر بھی
دل کا تاریک ہے کیوں غارِ حرا آخرِ شب

Advertisements