ہو گئی جب سے مرے درد کی شدت کم کم
مسکرانے کی بھی رہنے لگی عادت کم کم

بات رہ جائے گی میری ،میرے اندر گھٹ کر
اذنِ گویائی پہ ہوجائے گی ہمت کم کم

اب مرا ذوقِ سفر ہی مری انگلی تھامے
راستوں نے مری کرنی ہے قیادت کم کم

میری دوزخ سے تو فردوس کوئی دور نہیں
وقت دیتا ہے مگر سیر کی فرصت کم کم

سانحہ مجھ پہ جو گزرا ہے، کہوں تو کیسے
سنگ باری کی ہے پانی پہ اشارت کم کم

کب سے ملنے نہیں آیا مرے غرفے سے مجھے
چاند کے پاس بھی شائد ہے بشارت کم کم

مجھ سے کیا اپنی صفائی میں کہا جا سکتا
مل رہی تھی مجھے کچھ کہنے کی مہلت کم کم

اب مجھے خود ہی نظر آنا پڑے گا سب کو
شہر والوں میں تو ہوتی ہے بصارت کم کم

میں نے روداد تو خود آپ کی لکھی ہے مگر
آپ نے ایسی پڑھی ہو گی حکایت کم کم

اپنے بارے میں بھلا خاک بتائیں گے ظفر
خود سے کرتے ہیں ملاقات یہ حضرت کم کم

Advertisements