جس زمانے میں ہوا علمِ جہالت کم کم
باندھی جانے لگی دستارِ فضیلت کم کم

میرے کردار سے تفہیمِ فسانہ کیا ہو
اِس میں تفصیل زیادہ ہے وضاحت کم کم

زندہ رہنا ہے بہرحال اِسی دنیا میں
زندہ رہنے کی اگرچہ ہے سہولت کم کم

آسماں سے بھی ہے کچھ بیر خدا واسطے کا
اور چھت بھی تو سروں پر ہے سلامت کم کم

غمِ ہستی نے بھی چھوڑا نہ ہمارا دامن
مسکرانے کی بھی ہم کو رہی عادت کم کم

آکسیجن کی طرح تھا جو مرے جیون میں
اب اُسی نام سے بھی مجھ کو ہے نسبت کم کم

ہول آتا ہے چراغوں سے مرے لوگوں کو
آزماتی ہے نئے دور کی ظلمت کم کم

اِسی باعث ہمیں جینے کا ہنر نہ آیا
"شہر میں رزق تو وافر تها محبت کم کم”

اژدھے اپنی زبانوں میں ہیں پالے ہم نے
آسمانوں سے اُترتی ہے مصیبت کم کم

Advertisements